کرتارپور راہداری کے راستے پاکستان پہنچ کر پاکستانی بوائے فرینڈ کے ساتھ فیصل آباد جانے والی سکھ لڑکی، حقیقت سامنے آ گئی

کرتارپور راہداری کے راستے پاکستان پہنچ کر پاکستانی بوائے فرینڈ کے ساتھ فیصل آباد جانے والی سکھ لڑکی، حقیقت سامنے آ گئی

نئی دہلی(بول پاکستان رپورٹ) چند روز قبل کرتار پور راہداری کے ذریعے ایک سکھ لڑکی پاکستان پہنچی اور وہاں سے چھپ کر اپنے پاکستانی دوست لڑکے کے ساتھ فیصل آباد پہنچ گئی تاہم جب اس کے متعلق معلوم ہوا تو اسے بھارت واپس بھیج دیا گیا جہاں اس نے سچ سے پردہ اٹھا دیا۔

یہ بھی پڑھیں: وکلاء کا ہسپتال پر دھاوا، مریضوں، ڈاکٹروں اور صوبائی وزیر پر تشدد، 12مریض جاں بحق ہونے کی اطلاع، 25 ڈاکٹر زخمی

میڈیا رپورٹس کے مطابق اس 23 سالہ سکھ لڑکی کا نام منجیت کور تھا اور وہ بھارتی ریاست ہریانہ کی رہائشی تھی۔ بھارتی سکیورٹی ایجنسیوں کو دوران تفتیش منجیت نے بتایا کہ وہ شادی شدہ ہے تاہم وہ اپنی شادی سے خوش نہیں ہے کیونکہ اس کے ماں باپ نے زبردستی اس کی شادی ایک ہندو لڑکے سے کر دی تھی، جبکہ وہ خود ایک سکھ لڑکی ہے.

یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخوا میں خواجہ سراؤں کی سنی گئی، حکومت نے بڑا قدم اٹھا لیا

منجیت کور کا کہنا تھا کہ “سوشل میڈیا پر میری پاکستانی نوجوان اویس مختار کے ساتھ دوستی ہوئی اور ہم نے شادی کا فیصلہ کیا ہے۔ اسی غرض سے میں کرتار پور راہداری کے ذریعے پاکستان گئی تھی لیکن کرتار پور حکام نے مجھے زبردستی واپس بھارت بھیج دیا۔” منجیت کور نے کہا کہ “میں ہندو لڑکے کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی۔ میں مسلمان ہو کر اویس مختار سے شادی کرنا چاہتی ہوں اور اگر اس سے میری شادی نہ ہوئی تو میں خود کشی کر لوں گی۔ اگر مجھے پاکستان کا ویزہ نہ ملا تو میں اور اویس کوشش کریں گے کہ کسی تیسرے ملک میں جا کر شادی کر لیں۔”

یہ بھی پڑھیں: تاخیر سے آنے پر بارات کی پٹائی، دولہا کو گرفتار کروا کے دلہن کی شادی کس سے کر دی؟ حیران کن واقعہ

اپنا تبصرہ بھیجیں