بھارتی شہریت کے مسلم مخالف قانون کا معاملہ، وزیراعظم نریندر مودی کو اب تک کا زوردار جھٹکا لگ گیا

بھارتی شہریت کے مسلم مخالف قانون کا معاملہ، وزیراعظم نریندر مودی کو اب تک کا زوردار جھٹکا لگ گیا

نئی دہلی (بول پاکستان رپورٹ) نریندر مودی سرکار نے حال ہی میں پارلیمنٹ سے متنازع شہریت ترمیمی بل منظور کیا جس کے خلاف شدید احتجاج جاری تھا مگر اس احتجاج کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے بھارت کے صدر رام ناتھ کوونڈ نے اس بل کو منظور کرکے اسے قانون کی شکل دے دی ہے۔ تاہم منظوری کے بعد بھارت کی 6 ریاستوں نے اس نئے قانون کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی کو زور دار جھٹکا دے دیا ہے۔ جن ریاستوں نے اس مسلم مخالف قانون کو ماننے سے انکار کیا ان میں مغربی بنگال، پنجاب، کیرالا، مدھیا پردیش، چھتیس گڑھ اور نئی دہلی شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: اس 48 سالہ خاتون نے بالآخر اپنی دیرپا خوبصورتی اور جوانی کا راز دنیا کو بتا دیا

اس متنازع قانون پر بھارت بھر میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے اور ملک میں کرفیو کا سا سماں ہے۔ انٹرنیٹ اور موبائل فون سروس معطل کی جا چکی ہے اور اس ہنگامے کی وجہ سے جاپانی وزیراعظم کا بھارت کا دورہ بھی ملتوی کر دیا گیا ہے۔ پنجاب کے وزیراعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ اور کیرالا کے وزیراعلیٰ پینا رائی وجین نے سخت الفاظ میں اس قانون کی مخالفت کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: جنرل آصف غفور میرے ماموں، وزیراعظم اور آرمی چیف میرے دوست، نوجوان کی پولیس کو دھمکیاں، لیکن گاڑی سے کیا برآمد ہوا؟

روزنامہ جنگ کی رپورٹ کے مطابق مہاراشٹر حکومت میں وزیر اور کانگریس کے رہنما بالا صاحب تھوراٹ کا کہنا ہے کہ ہم اپنی پارٹی کی مرکزی قیادت کی پالیسی پر عمل کریں گے۔ انہوں نے واضح لفظوں میں کہا کہ ”ہم پوری طرح پارٹی کے رخ کے ساتھ ہیں۔“مسلم مخالف قانون کیخلاف ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے،کئی شہروں میں جھڑپوں کے دوران متعدد افراد ز زخمی ہوگئے، کئی شہروں میں موبائل اور انٹرنیٹ کی سہولت معطل رہی، احتجاج ملک کے شمال مشرقی علاقوں سے دیگر شہروں میں پھیل گیا ہے، نئی دہلی میں احتجاج کرنے والے طلبہ کی پولیس کے ساتھ جھڑپ ہوئی اور پولیس نے ان پر لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔

یہ بھی پڑھیں: ہسپتال پر حملہ: اہم حلقے متحرک، ڈاکٹروں اور وکلاء میں جلد صلح کا امکان، شرائط کی تفصل بھی سامنے آ گئی

امرتسر میں مسلم مظاہرین نے پلے کارڈز نذر آتش کیے جبکہ کولکتہ، کیرالا اور وزیر اعظم نریندر مودی کی آبائی ریاست گجرات میں بھی احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں، اقوام متحدہ اور امریکا نے متنازع قانون کو مسلم دشمن قرار دے دیا ہے۔امریکا کا کہنا ہے کہ بھارت میں شہریت سے متعلق قوانین میں حالیہ ترامیم کو باریکی سے دیکھا جا رہا ہے اور اس ضمن میں واشنگٹن حکومت نئی دہلی حکومت پر زور دیتی ہے کہ ملک میں مذہبی اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے، اقوام متحدہ نے بھی بل کو مسلم دشمن قرار دے دیا۔

یہ بھی پڑھیں: وکلا کا ہسپتال پر حملہ: فواد چوہدری اور فیاض الحسن چوہان ایک بار پھر آمنے سامنے آ کھڑے ہوئے

ریاست آسام کے شہر گوہاٹی میں کئی روز سے جاری احتجاج کے باعث جاپانی وزیراعظم شنزوآبے کا دورہ بھارت سیکورٹی وجوہات کی بناءپر ملتوی کردیا گیا ہے۔ گوہاٹی کے متعدد علاقوں میں انٹرنیٹ کی بندش کے باوجود جمعہ کے روز ہزاروں لوگ جمع ہوئے اور پرامن احتجاج کیا، تاہم اس دوران شہر کی بیشتر دکانیں اور پیٹرول پمپ بند رہے۔

یہ بھی پڑھیں: چار ناکام شادیوں‌کے بعد اداکارہ نور برطانیہ میں‌ پانچویں بار رشتہ ازدواج میں بندھ گئیں

بھارتی وزارت داخلہ کے ایک عہدیدار نے کہا ہے کہ ریاستی حکومتیں مرکزی حکومت کے حکم نامہ ماننے کی پابند ہیں، ان کے مطابق دفاع، وزارت خارجہ ، ریلویز، شہریت اور نیوٹرلائزیشن سمیت 97 معاملات پر ریاستی حکومتیں مرکزی حکومت کی پابند ہیں، بنگلہ دیشی وزیر خارجہ کے بعد جاپانی وزیراعظم شنزو آبے نے بھی اپنا بھارتی دورہ بھارت منسوخ کر دیا ہے، وزیراعظم شینرو آبے تین روزہ دورے پر پندرہ دسمبر کو بھارت پہنچنے والے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: شاہد آفریدی نے ایک ایسا اعزاز اپنے نام کر لیا کہ سن کر ان کے مداح افسردہ ہو جائیں گے

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے کا کہنا ہے کہ متنازع قانون بنیادی طور پر امتیازی ہے ، انہوں نے اس کا جائزہ لینے کا بھی مطالبہ کیا۔امریکی محکمہ خارجہ کے ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ بھارت کو اپنی جمہوری اقدار اور آئین کی پاسداری کا لحاظ کرتے ہوئے اقلیتوں کے حقوق کا خیال رکھنا چاہیے،اس بارے میں جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکا شہریت سے متعلق بل کے حوالے سے تمام پیش رفت پر نگاہ رکھے ہوئے ہے۔

یہ بھی پڑھیں: برطانیہ میں‌عام انتخابات: کنزرویٹو پارٹی نے پھر سے میدان مار لیا، اس بار کتنے پاکستانی نژاد منتخب ہوئے؟ بڑی خبر آ گئی

اپنا تبصرہ بھیجیں