نیب کو چیئرمین ایف بی آر کے خلاف درخواست دیئے جانے کا انکشاف، نیا تنازعہ کھڑا ہو گیا

نیب کو چیئرمین ایف بی آر کے خلاف درخواست دیئے جانے کا انکشاف، نیا تنازعہ کھڑا ہو گیا

اسلام آباد(بول پاکستان رپورٹ) نیب کو چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) شبر زیدی کے خلاف ایک درخواست موصول ہونے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔ یہ درخواست ایف بی آر کے ایک سابق رکن شاہد حسین اسد کے جعلی دستخط کے ساتھ دی گئی۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی اور ممبر ان لینڈ ریونیو آپریشن سیما شکیل نے پراپرٹی بلڈرز و ڈویلپرز کی ملی بھگت سے رئیل سٹیٹ سیکٹر میں 500 ارب روپے سے زائد مالیت کے ٹیکس فراڈ کیا۔ اس کی تحقیقات کی جائیں۔

یہ بھی پڑھیں: بھارتی وزیراعظم نریندر مودی گنگا کی سیر کرتے منہ کے بل گر گئے، ویڈیو سامنے آ گئی

روزنامہ ایکسپریس کے مطابق ایف بی آر اور تحقیقاتی اداروں نے سابق ممبر ایف بی آر شاہد حسین اسد کے جعلی دستخطوں سے لیٹر لکھنے والے کا سراغ لگانے کے لیے تحقیقات شروع کردی ہیں جبکہ چیئرمین ایف بی آر نے قانونی رائے اور جواب دینے کے لیے معاملہ ممبر لیگل کو بھجوادیا ہے۔ اس بارے میں چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ یہ لیٹر جعلی ہے اورشاہد حسین اسد سے ان کی اس حوالے سے بات ہوئی ہے، انہوں نے اس لیٹر سے لاتعلقی ظاہر کی ہے۔ اس بارے میں جب ایف بی آر کے سابق ممبر شاہد حسین اسد سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ یہ لیٹر ان کے جعلی دستخطوں سے چیئرمین نیب کو لکھا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: نیب آئینی ادارہ نہیں، حکومت کے ماتحت ہے، حکومتی کاموں‌ میں‌مداخلت کرتا ہے: فواد چوہدری بھی نیب کا شکوہ زبان پر لے آئے

شاہد حسین اسد نے کہا کہ انکی چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی سے ٹیلی فون پر بات ہوئی ہے اور میں نے چیئرمین ایف بی آر کو بتایا ہے کہ اس لیٹر پر میرے دستخط جعلی ہیں اور میرا اس خط سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ایف بی آر کے ذرائع کا کہنا ہے کہ چند روز قبل ایک اہم ادارے کا اہلکار چیئرمین ایف بی آر سے ملاقات کے لیے آیا اور انہوں نے لفافہ کھول کر یہ لیٹر چیئرمین ایف بی آر کو دیا جس پر چیئرمین ایف بی آر نے معاملے کی انکوائری کا حکم دیا اور لیٹر قانونی رائے کے لیے ایف بی آر کے ممبر لیگل کو بھجوا دیا۔

یہ بھی پڑھیں: ایشیاء کی پرکشش ترین خواتین کی فہرست جاری، عالیہ بھٹ پہلے نمبر پر، پاکستان سے کون کون اس میں شامل ہوئیں؟

ایکسپریس کے مطابق ممبر ایف بی آر شاہد حسین اسد کے جعلی دستخطوں سے چیئرمین ایف بی آر اور ممبر ان لینڈ ریونیو آپریشن کے خلاف تحقیقات کیلیے قومی احتساب بیورو کے چیئرمین کو دی جانے والی درخواست کی کاپی میں چیئرمین ایف بی آر پر سنگین نوعیت کے الزامات عائد کیے گئے ہیں، درخواست کی کاپی وزیراعظم عمران خان،صدر پاکستان عارف علوی اور چیف جسٹس آف پاکستان کو بھی بھجوائی گئی ہے۔ سابق ممبر ایف بی آر شاہد حسین اسد کے جعلی دستخطوں سے بھجوائی جانے والی درخواست میں الزام عائد کیا ہے کہ آئی ایم ایف کی جانب سے ایف بی آر کو پراپرٹی ڈویلپرز و بلڈرز کو فکسڈ ٹیکس سکیم کے ذریعے ریلیف دینے کی مخالفت کے بعد ایف بی آر کے موجودہ چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی اور ممبر ان لینڈ ریونیو آپریشن سیما شکیل بڑے پراپرٹی ڈویلپرز کو اربوں روپے کا ریلیف دینے کے لیے ذاتی طور پر فیور دینے کی کوشش کررہے ہیں جس سے قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچ رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پی ایس ایل سیزن 5 میں شامل نہ ہونے پر آسٹریلوی باؤلر ایرن سمرز دل گرفتہ، شکوہ زبان پر لے آئے

مذکورہ جعلی لیٹر میں کہا گیا ہے کہ آئی ایم ایف کی طرف سے ریئل اسٹیٹ سیکٹر کیلیے فکسڈ ٹیکس اسکیم مسترد کیے جانے کے بعد ایف بی آر نے 3دسمبر 2019 کو جاری کردہ جوریزڈکشن آرڈر نمبری 7(401)Jurisdiction/2019/280620-R کے ذریعے بلڈرز اور ڈویلپرز کے تمام کیس آر ٹی او اسلام آباد ، کارپوریٹ آر ٹی او لاہور اور ایل ٹی یو ٹو کراچی میں قائم کیے جانے والے تین خصوصی سرکلز کو ٹرانسفر کردیے ہیں اور اس حوالے سے سیکریٹری جوریزڈکشن محمد نواز کے دستخطوں سے جاری کردہ مذکورہ جوریزڈکشن آرڈر میں کہا گیا ہے کہ بلڈرز و ڈویلپرز کے تمام کیسز ان اسپیشل سرکلز کو منتقل کردیے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بھارتی شہریت کے مسلم مخالف قانون کا معاملہ، وزیراعظم نریندر مودی کو اب تک کا زوردار جھٹکا لگ گیا

رپورٹ کے مطابق شاہد حسین اسد کی جانب سے لکھے گئے لیٹر میں مزید کہا گیا ہے کہ مذکورہ آرڈر کے بعد لاہور،ملتان ،ساہیوال اور بہاولپور کے پراپرٹی ڈویلپرز و بلڈرز کے کیسوں کو صرف لاہور آفس دیکھے گا۔ اسی طرح اسلام آباد، راولپنڈی، سیالکوٹ، فیصل آباد،پشاور،گوجرانوالہ اور سرگودھا کے پراپرٹی ڈویلپرز و بلڈرز کے کیس اب صرف آر ٹی او اسلام آباد دیکھے گا۔ لیٹر میں مزید بتایا گیا ہے کہ ملک بھر میں پراپرٹی بلڈرز اور ڈویلپرز کے بارہ ہزار کے لگ بھگ کیس ہیں اور یہ واضح نہیں ہے کہ ایک آفیسر کیسے تین ہزار سے چار ہزار بلڈرز و ڈویلپرز کے ٹیکس ایشوز کو ڈیل کرسکے گا جبکہ بلڈرز و ڈولپرز کے کیسوں میں انکم ٹیکس،سیلز ٹیکس اور ود لوڈنگ انکم ٹیکس سے متعلقہ ایشوز شامل ہیں۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک آفیسر تین سے چار ہزار کیسوں میں آڈٹ ،انفورسمنٹ واجبات اور ٹیکس کلکشن سے متعلقہ معاملات کی ایک ساتھ جانچ پڑتال کرے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں پراپرٹی ڈیلرز اور ڈویلپرز کے کیس صرف تین افسران کو منتقل کیے جانے کا ایک ہی مقصد نظر آتا ہے کہ ان پر کم سے کم ٹیکس عائد کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: اس 48 سالہ خاتون نے بالآخر اپنی دیرپا خوبصورتی اور جوانی کا راز دنیا کو بتا دیا

اپنا تبصرہ بھیجیں