کیا آپ اس عظیم خاتون کو جانتے ہیں؟ ان کا کارنامہ جان کر آپ کا سر فخر سے بلند ہو جائے گا

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)اس پاک وطن کی آزادی کے لیے خواتین نے بھی مردوں کے شانہ بشانہ تحریک پاکستان میں حصہ لیا اور اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر ایسے کارنامے سرانجام دیئے کہ آج ہم ان پر فخر کرتے ہیں۔ محترمہ فاطمہ صغریٰ بھی ایک ایسا ہی نام ہے جن کی تصویر آپ دیکھ رہے ہیں۔ محترمہ فاطمہ صغریٰ نے تحریک پاکستان میں انتہائی کم عمری میں حصہ لیا اور ایک موقع پر اپنی جان کی پروا نہ کرتے ہوئے محض 14سال کی عمر میں وہ کارنامہ سرانجام دے ڈالا کہ کوئی سوچ بھی نہ سکتا تھا۔ ان کا کارنامہ یہ تھا کہ انہوں نے پنجاب سول سیکرٹریٹ لاہور کا سکیورٹی حصار توڑتے ہوئے اس پر لہراتے برطانوی جھنڈے ’یونین جیک‘ کو اتار پھینکا اور اس کی جگہ اپنا سبز دوپٹہ لہرا دیا۔

یہ بھی پڑھیں: امیر ترین لوگوں کی وہ ایک عادت جو آپ کو بھی زندگی میں کامیاب بنا سکتی ہے

Reddit پر کی گئی ایک پوسٹ کے مطابق یہ 14فروری 1947ءکی بات ہے۔ مسلم لیگ سے وابستہ خواتین انگریز سامراج کے خلاف لاہور میں ایک جلوس نکال رہی تھیں۔ غروب آفتاب کے وقت یہ جلوس سول سیکرٹریٹ کے قریب پہنچا تو پولیس کے دستوں نے ان آزادی کی متوالی خواتین پر بدترین لاٹھی چارج شروع کر دیا اور آنسو گیس کی بوچھاڑ کر دی۔ پولیس سیکرٹریٹ کی حفاظت کے لیے مستعد تھی، اس کے باوجود 14سالہ کی فاطمہ صغریٰ سیکرٹریٹ کے اندر گھسی اور چھت تک جا پہنچی جہاں انگریز سامراج کا غرور لہرا رہا تھا۔ اس جرات مند لڑکی نے اسے اتار پھینکا اور وہاں اپنا فخر لہرا دیا۔

فاطمہ صغریٰ
فاطمہ صغریٰ

مسلم لیگ کے جھنڈے کا رنگ چونکہ سبز تھا اور محترمہ فاطمہ صغریٰ نے سبز رنگ کا دوپٹہ لے رکھا تھا، چنانچہ انہوں نے مسلم لیگ کے جھنڈے کے طور پر اپنا سبز دوپٹہ ہی سول سیکرٹریٹ کی عمارت پر لہرا دیا۔ ان کی اس بہادری کی دھوم پورے ہندوستان میں مچ گئی اور ہر زبان پر لاہور کی فاطمہ صغریٰ کا نام تھا، جس نے وہ کر دکھایا تھا کہ جس کا کوئی سوچ بھی نہ سکتا تھا۔محترمہ فاطمہ صغریٰ 27ستمبر 2018ءکو ہمیشہ کے لیے ہم سے جدا ہو گئیں۔ انہوں نے 86برس کی عمر پائی۔ انہیں لاہور میانی صاحب قبرستان میں سپردخاک کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: دیگر مذاہب کے لوگوں نسبت مسلمان زیادہ خوش رہتے ہیں اور اس کی وجہ۔۔۔ نئی تحقیق میں سائنسدانوں کا حیران کن انکشاف

اپنا تبصرہ بھیجیں