سانحہ اے پی ایس کی خبر بریک ہونے سے 1 گھنٹہ قبل طالبان کمانڈر نے ایک صحافی کو فون کرکے کیا کہا؟

سانحہ اے پی ایس کی خبر بریک ہونے سے 1 گھنٹہ قبل طالبان کمانڈر نے ایک صحافی کو فون کرکے کیا کہا؟ بالآخر صحافی نے خاموشی توڑ دی

پشاور (بول پاکستان رپورٹ) سانحہ آرمی پبلک سکول پشاور کو آج پانچ سال گزر گئے۔ یہ وہ سیاہ ترین دن تھا جب دہشت گردوں نے اے پی ایس میں معصوم بچوں کا خون اس سفاکیت کے ساتھ بہایا کہ تاریخ انسانی میں ایسی بربریت کی مثال ڈھونڈنا مشکل ہے۔ دہشت گردوں کے اس حملے کی خبر میڈیا پر آنے سے ایک گھنٹہ قبل طالبان کے ایک کمانڈر نے افغانستان سے ایک معروف پاکستانی صحافی کو فون کال کی۔ اب پہلی بار اس صحافی نے خاموشی توڑ دی ہے اور بتا دیا ہے کہ دہشت گرد نے اس سے کیا کہا تھا۔ اس صحافی کا نام رفعت اللہ اورکزئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سانحہ اے پی ایس پشاور کو 5 سال گزر گئے، اب تک کتنے دہشت گردوں کو پھانسی دی گئی؟

رفعت اللہ اورکزئی نے روزنامہ جنگ کے لیے لکھی گئی اپنی تحریر میں بتایا ہے کہ ’’وہ ایک انتہائی بھیانک اور خوفناک دن تھا۔ اس روز جس بےدردی سے معصوم بچوں اور اساتذہ کو خون میں نہلایا گیا اس کی ہماری ملکی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔آرمی پبلک اسکول پشاور پر ہونے والے طالبان حملے میں جس انتہا درجے کی بربریت اور سفاکی کا مظاہرہ کیا گیا اس نے پاکستانی قوم کے ساتھ ساتھ پوری دنیا کو بھی ہلا کر رکھ کر دیا تھا۔”

یہ بھی پڑھیں: چینی شہری کو بیچی جانے والی پاکستانی دلہن کی دردناک کہانی، کس اذیت ناک موت سے دوچار ہوئی، سن کر رونگٹے کھڑے ہو جائیں

وہ لکھتے ہیں کہ “میرے لئے وہ دن کئی حوالوں سے مشکلات اور دکھوں کا باعث بنا۔ میں شاید پاکستان کا واحد صحافی تھا جسے سب سے پہلے اس واقعے کا علم ہوا۔ یہ 16 دسمبر کی صبح تقریباً 9 بجے کا وقت تھا جب مجھے افغانستان کے نمبر سے ایک کال موصول ہوئی۔ ہمیں اکثر اوقات اس طرح کی کالیں موصول ہوتی تھیں۔ مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ یہ تحریک طالبان پاکستان کے کسی کمانڈر کی کال ہوگی۔ جب میں نے فون اٹھایا تو دوسری طرف خلیفہ عمر منصور بات کررہا تھا۔خلیفہ عمر منصور عرف ’نرے‘ (دبلے) تحریک طالبان پاکستان کے پشاور اور درہ آدم خیل گروپ کا امیر تھا۔ وہ آرمی پبلک اسکول اور باچا خان یونیورسٹی پر ہونے والے دونوں حملوں کے ماسٹر مائنڈ بتایا جاتا تھا۔”

یہ بھی پڑھیں: بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے نومبر میں کتنی رقم پاکستان بھیجی؟ جان کر وزیراعظم عمران خان خوش ہو جائیں‌گے

رفعت اللہ اورکزئی مزید لکھتے ہیں کہ “علیک سلیک کے بعد عمر منصور نے کہا کہ ان کے کچھ حملہ آور پشاور کے کسی سکول میں داخل ہو گئے ہیں اور میں ان کی دوسری کال کا انتظار کروں۔ میں نے فون بند کرتے ہی ریموٹ اٹھایا اور چینلز تبدیل کرنے لگا لیکن کسی ٹی وی چینل پر کوئی خبر نظر نہیں آئی، ساتھ ساتھ یہ بھی سوچتا رہا کہ ہو سکتا ہے اطلاع غلط ہو کیونکہ شدت پسند تنظیمیں کبھی کبھار جھوٹے دعوے بھی کرتی تھیں لیکن صحافی ہونے کے ناتے ٹی وی کے سامنے ضرور بیٹھا رہا اور چینلز مسلسل تبدیل کرتا رہا۔”

یہ بھی پڑھیں: آدمی کام سے لوٹا تو اپنی نوجوان بیوی کو ایسی شرمناک حالت میں‌دیکھ لیا کہ مشتعل ہو کر گولیاں برسا دیں

وہ کہتے ہیں کہ “میں وثوق سے نہیں کہہ سکتا لیکن فون کال آنے کے تقریباً ایک گھنٹے کے بعد مجھے اچانک ایک ٹی وی چینل پر ایک ٹِکر نظر آیا جس میں وارسک روڈ پر پولیس کے ساتھ کسی جھڑپ کی خبر تھی لیکن اس سے زیادہ اور معلومات نہیں تھیں۔ ابھی یہ خبر بریک ہورہی تھی کہ شدت پسند کمانڈر خلیفہ عمر منصور کی دوسری کال آئی اور اس کی طرف سے اطلاع دی گئی کہ حملہ آرمی پبلک سکول پر کیا گیا ہے۔ طالبان کمانڈر نے یہ بھی کہا کہ اگر آپ چاہتے ہیں تو آپ کو خودکش حملہ آور کا موبائل نمبر بھی دے سکتا ہوں جو اس وقت آرمی پبلک سکول میں موجود ہے یا آپ کا نمبر اُسے دے دوں گا، آپ کو کال کر کے اندر کی پوری صورتحال بتا دے گا۔ میں نے اس پر کوئی بات ہی نہیں کی اور فون کاٹ دیا‘‘۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم مہاتیر محمد نے کپتان کو تحفے میں‌ کون سی گاڑی بھیجی ہے؟ تفصیلات سامنے آ گئیں

اپنا تبصرہ بھیجیں