نیب آئینی ادارہ نہیں، حکومت کے ماتحت ہے، حکومتی کاموں‌ میں‌مداخلت کرتا ہے: فواد چوہدری بھی نیب کا شکوہ زبان پر لے آئے

پارلیمنٹ سپریم ہے یا سپریم کورٹ؟ آرمی چیف کی مدت ملازمت پر سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ، فواد چوہدری نے اہم سوالات اٹھا دیئے

اسلام آباد (بول پاکستان رپورٹ) سپریم کورٹ آف پاکستان نے آج آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ اس فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کئی اہم سوالات اٹھا دیئے ہیں۔ اس فیصلے میں سپریم کورٹ نے پارلیمنٹ کو آرمی چیف کی مدت ملازمت سے متعلق قانون سازی کرنے کا حکم دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: وفاقی وزیر مراد سعید کے والد کو آسٹریلیا میں‌ ایئرپورٹ پر گرفتار کر لیا گیا

اس پر فواد چوہدری نے کہا کہ اگر سپریم کورٹ پارلیمنٹ کو کوئی مخصوص قانون بنانے کا کہہ سکتی ہے تو پھر پارلیمنٹ سپری ادارہ نہیں ہے۔ انہوں نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر مزید کہا کہ “بڑا سوال یہ ہے کہ ملک میں سپریم کون ہے، پارلیمنٹ یا سپریم کورٹ؟ اگر سپریم کورٹ پارلیمنٹ کو قانون سازی کا کہہ سکتی ہے تو پھر پارلیمنٹ سپریم نہیں ہے۔”

یہ بھی پڑھیں: سانحہ اے پی ایس کی خبر بریک ہونے سے 1 گھنٹہ قبل طالبان کمانڈر نے ایک صحافی کو فون کرکے کیا کہا؟ بالآخر صحافی نے خاموشی توڑ دی

فواد چوہدری نے مزید کہا کہ “یہ کہنا کہ روایات کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہوتی، درست تشریح نہیں ہے۔” انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ “وزیراعظم کے ایگزیکٹیو اختیارات کو پارلیمنٹ کیسے بروئے کار لا سکتی ہے جبکہ پارلیمنٹ کوئی انتظامی ادارہ نہیں ہے۔ آرمی چیف کی مدت کا تعین پارلیمنٹ لازماً کرے مگر سپریم کورٹ یہ حکم کیسے دے سکتی ہے؟ فیصلے میں 1956ء اور 1962ء کے دساتیر پر بھی سیر حاصل گفتگو نہیں کی گئی، نہ ہی ان پارلیمانی تقریروں کو دیکھا گیا ہے جو 1973ء کے آئین میں آرٹیکل 243 کی تشریح کرتی ہیں۔” یہ تمام سوالات اٹھانے کے بعد وفاقی وزیر نے کہا کہ “سپریم کورٹ بہرحال سپریم عدالت ہے اور حتمی فیصلے کا اختیار اسی کے پاس ہے۔”

یہ بھی پڑھیں: چینی شہری کو بیچی جانے والی پاکستانی دلہن کی دردناک کہانی، کس اذیت ناک موت سے دوچار ہوئی، سن کر رونگٹے کھڑے ہو جائیں

اپنا تبصرہ بھیجیں