پرویز مشرف کو سزائے موت کا معاملہ، چیف جسٹس آف پاکستان بھی میدان میں‌ آ گئے

پرویز مشرف کو سزائے موت کا معاملہ، چیف جسٹس آف پاکستان بھی میدان میں‌ آ گئے

اسلام آباد (بول پاکستان رپورٹ) گزشتہ روز خصوصی عدالت کی طرف سے سابق صدر و ریٹائرڑ آرمی چیف پرویز مشرف کو سنگین غداری کیس میں سزائے موت سنائی جس پر پاک فوج کی طرف سے انتہائی شدید ردعمل سامنے آیا۔ اب چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ بھی اس معاملے میں سامنے آ گئے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ “پرویز مشرف کا کیس بہت واضح تھا اور انہیں اپنے دفاع کے لیے متعدد مواقع فراہم کیے گئے۔”

یہ بھی پڑھیں: سنگین غداری کیس: خصوصی عدالت نے پرویز مشرف کو سزائے موت سنا دی

چیف جسٹس آف پاکستان نے میڈیا کے ساتھ غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ “پرویز مشرف کے کیس کو طول دیا جا رہا تھا اور اگر ہم جلدی نہ کرتے تو معاملہ سالوں تک طویل ہو جاتا۔ ہم نے تاخیری حربوں کے باوجود معاملے کو منطقی انجام تک پہنچایا۔” آرمی چیف کی مدت ملازمت سے متعلق چیف جسٹس آف پاکستان کا کہنا تھا کہ “جسٹس گلزار نے آرمی چیف کی مدت ملازمت کا کیس سننے سے معذرت کی۔ ہم نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا کیس میرٹ پر سنا اور فیصلہ دیا۔”

یہ بھی پڑھیں: فوج میں غم و غصہ پایا جا رہا ہے، پرویز مشرف کو سزائے موت ہونے پر پاک فوج کا انتہائی شدید ردعمل

چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ “اس کیس کا ایسا فیصلہ دیا گیا تاکہ مستقبل میں تقرر کے معاملے کا ہمیشہ کے لیے تعین ہو جائے۔” چیف جسٹس آف پاکستان نے ایک مقدمے میں بڑی سرکاری پوزیشن دئیے جانے کا بھی ذکر کیا۔ جسٹس قاضی فائز عیسی کے ریفرنس سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ “جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ذاتی بات چیت کو درخواست کا حصہ بنا یا، شک تھا کہ جسٹس فائز کے خلاف ریفرنس فیض آباد دھرنے کا ہو گا لیکن ان کے خلاف معاملہ لندن جائیدادوں کا نکلا۔ جسٹس فائز سے کہا کہ اپنا ریکارڈ منگوا کر چیک کریں جبکہ فیض آباد دھرنا نظر ثانی کیس میں کہا کہ فیصلہ میرٹ پر دیں، جسٹس فائز کو ادارے کی ساکھ سے متعلق بیانات دینے سے روکا۔ ان کا کہنا تھا کہ شوکت عزیز صدیقی نے اداروں کے خلاف جو کہا نہیں کہنا چاہیے تھا ،ان کو ہٹانے کا فیصلہ میرٹ پر کیا۔

یہ بھی پڑھیں: دنیا کے 65 ممالک سے پاکستان کے خلاف پراپیگنڈا کرنے والا بھارتی نیٹ ورک پکڑا گیا

اپنا تبصرہ بھیجیں