اغواکار اس کے ساتھ کیا سلوک کرتے رہے؟ دعا منگی نے بالآخر تمام قصہ سنا دیا

اغواکار اس کے ساتھ کیا سلوک کرتے رہے؟ دعا منگی نے بالآخر تمام قصہ سنا دیا

کراچی (بول پاکستان رپورٹ) 30 دسمبر کی رات کراچی کے علاقے ڈیفنس سے اغوا ہونے والی 20 سالہ طالبہ دعا منگی نے اپنا آفیشل بیان ریکارڈ کروا دیا ہے۔ نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق اپنے بیان میں اس نے کہا ہے کہ “میں اپنے دوست حارث سومرو کے ساتھ تھی۔ ہم چائے پی کر ہوٹل سے نکلے اور واک کرنے لگے۔ اسی دوران ایک گاڑی ہمارے پاس آ کر رکی۔ اس میں سے 2 لوگ باہر نکلے اور مجھے پکڑ کر زبردستی اپنی کار میں بٹھا لیا۔ اگلی چیز جو میں نے سنی وہ گولی چلنے کی آواز تھی۔”

یہ بھی پڑھیں: پراسرار بازیابی کے بعد دعا منگی نے حکومت سندھ سے ایک چیز مانگ لی، سکیورٹی نہیں بلکہ۔۔۔

دعا منگی نے کہا کہ “کار میں ڈالنے کے بعد اغوا کاروں نے میرے منہ پر ہاتھ رکھ دیا اور میری آنکھوں پر سیاہ پٹی باندھ دی۔ راستے میں انہوں نے 3 گاڑیاں بدلیں۔ ہر بار وہ مجھے ایک گاڑی سے نکال کر دوسری میں سوار کراتے۔ میں نے اغوا کاروں میں سے کسی کا بھی چہرہ نہیں دیکھا۔ میری آنکھیں صرف اس وقت ہی کھولی جاتی تھیں جب وہ لوگ مجھے کھانا کھلاتے تھے۔”

یہ بھی پڑھیں: اگر بھارت میں احتجاج آئندہ ہفتے تک جاری رہا تو کشمیر میں… بھارتی سکالر نے ہی مودی سرکار کی مذموم منصوبہ بندی کا بھانڈہ پھوڑ دیا

دعا منگی کا کہنا تھا کہ ” ان تمام دنوں میں انہوں نے میرے ہاتھ پاؤں باندھ کر رکھے اور آنکھوں پر پٹی باندھے رکھی۔ جو شخص مجھے کھانا کھلانے آتا تھا ہر بار اس کی آواز مختلف ہوتی تھی۔ وہ میرے کانوں میں ہیڈفونز ڈال کر رکھتے تھے تاکہ میں ان کی گفتگو نہ سن سکوں۔” واضح رہے کہ دعا منگی لاء کی سٹوڈنٹ ہے۔ اسے کراچی کے علاقے ڈیفنس میں بخاری کمرشل کے قریب سے 30 نومبر کو اغوا کیا گیا اور اس کی بازیابی 6 دسمبر کو عمل میں آئی۔ اس کے گھر والوں نے اس کی بازیابی کے لیے اغواء کاروں کو 20 لاکھ روپے تاوان ادا کیا۔

یہ بھی پڑھیں: لاہور میں‌ماڈلز اور اداکاراؤں کی برہنہ تصاویر اور ویڈیوز بنائے جانے کا انکشاف

اپنا تبصرہ بھیجیں