میرا جیٹھ میرے کمرے میں‌گھس آیا اور کنڈی لگا کر

میرا جیٹھ میرے کمرے میں‌گھس آیا اور کنڈی لگا کر۔۔۔ شادی کا جھانسہ دے کر معصوم لڑکیوں‌ کی زندگیاں تباہ کرنے والے گروہ کے ہتھے چڑھنے والی لڑکی کی المناک کہانی

اٹک (بول پاکستان رپورٹ) شادی کا جھانسہ دے کر معصوم لڑکیوں کی زندگیاں تباہ کرنے اور ان کے والدین کی جمع پونجی لوٹنے والے گروہوں کے متعلق گاہے خبریں آتی رہتی ہیں۔ ایسے گروہ اچھے بن کر لڑکیوں سے شادیاں کرتے اور جہیز لیتے ہیں اور پھر زیورات وغیرہ ہڑپ کرکے دو چار ماہ لڑکی کو ظلم و تشدد کا نشانہ بنا کر طلاق کا جواز تراشتے اور پھر اس سے گلوخلاصی کرکے نئی شادی کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔ ان کے بااثر ہونے اور گاہے پولیس کی ملی بھگت ہونے کے باعث زندگی تباہ کروا بیٹھنے والی معصوم لڑکی اور اس کے والدین کے پاس صبر کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا۔ ایسا ہی کچھ اٹک کی رہائشی افشاں نامی لڑکی کے ساتھ ہوا۔

یہ بھی پڑھیں: اغواکار اس کے ساتھ کیا سلوک کرتے رہے؟ دعا منگی نے بالآخر تمام قصہ سنا دیا

افشاں کا رشتہ ڈی سی کالونی گوجرانوالہ کے رہائشی زید اکرام سے دو سال قبل ہوئی تھی۔ افشاں نے بول پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے اپنی المناک کہانی سنائی۔ اس نے بتایا کہ “ڈی سی کالونی کے ستلج بلاک میں رہنے والے محمد اکرام مغل اور ان کی اہلیہ نے اپنے بیٹے زید اکرام مغل کے لیے میرا رشتہ مانگا۔ انہوں نے ہمارے گھر کے کافی چکر لگائے میرے والدین کو مطمئن کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ یوں ہمارا رشتہ طے ہو گیا۔”

یہ بھی پڑھیں: پراسرار بازیابی کے بعد دعا منگی نے حکومت سندھ سے ایک چیز مانگ لی، سکیورٹی نہیں بلکہ۔۔۔

افشاں نے کہا کہ “ان لوگوں نے ہمیں بتایا کہ حال ہی میں زید کی بہن ریشم کا انتقال ہوا ہے چنانچہ شادی سادگی سے ہو گی اور تقریب میں صرف ان کے گھر کے افراد ہی آئیں گے۔ یہ دراصل وہ اپنے کرتوت چھپانے کی وجہ سے زیادہ لوگ نہیں بلانا چاہتے تھے لیکن ہم سمجھ نہ سکے اور میں بیاہ کر ان کے گھر چلی گئی۔ شادی کے تیسرے روز ہی میری ساس نے مجھ سے تمام زیورات لے کر اپنے پاس رکھ لیے اور اس کے بعد انہوں نے مجھے تنگ کرنا شروع کر دیا۔ میری ساس نے میرے تمام نئے کپڑے بھی اپنے پاس رکھ لیے اور پرانے دو جوڑے دے کر کہا کہ بس یہی پہنا کرو۔ اس نے مجھے میرے ہی بیڈروم میں جانے سے روک دیا اور کہا کہ ‘جب میرا بیٹا سو رہا ہو تو تم کمرے میں نہیں جاؤ گی۔’ جب میں نے پوچھا کہ میں اپنے ہی کمرے میں کیوں نہ جاؤں تو وہ مجھ پر چیخنے چلانے لگی۔ اس کی آواز سن کر میرا سسر اندر آیا اور مجھے تشدد کا نشانہ بنانا شروع کر دیا۔ وہ مجھے گھسیٹا ہوا میرے کمرے میں لے گیا اور اندر سے کنڈی لگا کر اس نے مجھ پر بہیمانہ تشدد کیا۔ جب میرا شوہر آیا اور میں نے اسے بتایا تو اس نے الٹا مجھے ہی غلط قرار دے دیا اور کہا کہ تم ان کے سامنے کیوں بولی تھیں۔ اس کے بعد مارپیٹ روز کا معمول بن گئی مگر میں برداشت کرتی رہی کہ شاید ان کے دل میں رحم آ جائے اور وہ میرے ساتھ اچھا سلوک کرنا شروع کر دیں لیکن ایسا کبھی ہونا ہی نہیں تھا۔ ”

یہ بھی پڑھیں: اگر بھارت میں احتجاج آئندہ ہفتے تک جاری رہا تو کشمیر میں… بھارتی سکالر نے ہی مودی سرکار کی مذموم منصوبہ بندی کا بھانڈہ پھوڑ دیا

افشاں نے مزید کہا کہ “پھر ایک روز میرے شوہر کا بڑا بھائی محب اکرام مغل میرے کمرے میں گھس آیا۔ اس نے کمرے کا دروازہ بند کر دیا اور مجھ سے ایسا مطالبہ کر دیا کہ میں سوچ بھی نہ سکتی تھی۔ میں اس شخص کو اپنا بھائی کہتی اور سمجھتی تھی لیکن وہ تو شیطان نکلا۔ جب میں نے اسے سختی سے منع کیا تو وہ زبردستی کرنے لگا جس پر میں نے چیخنا چلانا شروع کر دیا۔ اس پر وہ باہر چلا گیا اور گھر والوں کے سامنے الٹا مجھ پر الزام لگا دیا۔ اس کی ماں میرے پاس آئی اور مجھے گالیاں دینے لگی اور پھر اس کے باپ نے آ کر مجھے تشدد کا نشانہ بنایا۔ اب میں سمجھتی ہوں کہ یہ سب ان لوگوں کی چال تھی۔ وہ طلاق کا بہانہ بنانا اور مجھے گھر سے نکالنا چاہتے تھے تاکہ زید کی اگلی شادی کروا سکیں اور میرے جیسی کسی اور لڑکی کی زندگی برباد کر سکیں۔ اسی دوران مجھ پر یہ انکشاف ہوا کہ مجھ سے پہلے بھی زید کی دو شادیاں ہو چکی تھیں۔ میں نے کچھ سراغ لگایا تو ایک لڑکی کا مجھے پتا مل گیا اور میں نے اس سے جا کر ملاقات بھی کی۔ اس نے مجھے بتایا کہ اس کے ساتھ بھی ان لوگوں نے یہی کچھ کیا تو جو میرے ساتھ کر رہے تھے۔”

یہ بھی پڑھیں: پرویز مشرف کے ساتھیوں کے خلاف بھی کارروائی کا مطالبہ لیکن ان کے کتنے ساتھی آج عمران خان کی کابینہ میں شامل ہیں؟

افشاں نے بتایا کہ “میرے جیٹھ کے مجھ پر جنسی حملے کے بعد انہوں نے مجھے دو دن تک کمرے میں بھوکا پیاسا بند رکھا اور تیسرے دن میرے ماں باپ کو بلا کر ان کے سامنے مجھ پر انتہائی غلیظ الزامات لگائے اور مجھے ان کے ساتھ بھیج دیا۔ ہمارے جاتے ہی انہوں نے طلاق کا ایک نوٹس بھجوا دیا اور کچھ ہی عرصے بعد زید کی چوتھی شادی کروا دی۔ اس وقت سے ہم دربدر بھٹک رہے ہیں مگر کہیں انصاف نہیں مل رہا۔ ہم نے ان کے خلاف مقدمہ درج کروایا لیکن پولیس بھی ان کے ساتھ مل گئی۔ اب ہمارا کیس عدالت میں ہے لیکن وہاں بھی ان کا اثر و رسوخ ہماری ایک نہیں چلنے دے رہا اور وکیل ان کے ساتھ مل کر تاریخ پر تاریخ لیتے جا رہے ہیں۔ وہ ہمیں فون پر سنگین دھمکیاں دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ پولیس یا عدالت، کوئی بھی ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ میری وزیراعظم پاکستان، چیف جسٹس آف پاکستان اور وزیراعلیٰ پنجاب سے درخواست ہے کہ ہمیں انصاف دلایا جائے۔ ان لوگوں نے میری ہی نہیں، میرے جیسی نجانے اور کتنی لڑکیوں کی زندگیاں بھی تباہ کی ہیں۔”

یہ بھی پڑھیں: لاہور میں‌ماڈلز اور اداکاراؤں کی برہنہ تصاویر اور ویڈیوز بنائے جانے کا انکشاف

اپنا تبصرہ بھیجیں