supreme court

موجیں ختم، موبائل فون کارڈز اور ری چارج پر تمام ٹیکس بحال کر دیئے گئے

اسلام آباد(بول پاکستان رپورٹ) سابق چیف جسٹس آف سپریم کورٹ جسٹس میاں ثاقب نثار نے موبائل فون کارڈز پر عائد تمام ٹیکس پر حکم امتناع جاری کیا تھا جس کے بعد صارفین کو پورا بیلنس ملنا شروع ہو گیا۔ اب سپریم کورٹ نے اس مقدمے کو نمٹاتے ہوئے حکم امتناع ختم کر دیا ہے اور موبائل فون کارڈز اور ری چارج پر تمام ٹیکس بحال کر دیئے ہیں۔ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے گزشتہ روز اس مقدمے کا مختصر فیصلہ پڑھ کر سنایا۔

یہ بھی پڑھیں: ٹوئٹر کا نیا فیچر متعارف، اب سیاسی جماعتیں اس کے ذریعے گمراہ کن پراپیگنڈا نہیں کر سکیں گی

فیصلے میں سپریم کورٹ کی جانب سے کہا گیا کہ ”ٹیکس کے معاملات میں عدلیہ مداخلت نہیں کرے گی۔ ہم ریونیو اور ٹیکس معاملات میں مداخلت کیے بغیر اس مقدمے کو نمٹاتے ہیں۔“چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ ”موبائل فون کارڈز اور ری چارج پر ٹیکس کا نوٹس 5ججوں کے حکم پر لیا گیا۔ ان لاکھوں صارفین سے ٹیکس لیا جا رہا تھا جن پر ٹیکس لاگو ہی نہیں ہوتا۔ ہر شہری سے ٹی وی لائسنس بھی لیا جاتا ہے۔ حالانکہ ہر ٹی وی دیکھنے والے پر انکم ٹیکس لاگو نہیں ہوتا لیکن وہ ٹیکس دیتا ہے۔“

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم عمران خان آج 4 روزہ دورے پر چین روانہ ہوں گے، اس دورے کی اہمیت کیا ہے؟مکمل تفصیل جانئے

کیس کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے ایک بار پھر عدالتی دائرہ اختیار پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ ”ٹیکس کے معاملات پر ازخود نوٹس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ ٹیکس پر حکم امتناع جاری کیے جانے کے باعث حکومت کو اپنی آمدن کا بڑی حصہ نہیں مل رہا۔ جس کو بھی ٹیکس استثنیٰ چاہیے وہ متعلقہ کمشنر سے رجوع کرے۔“

یہ بھی پڑھیں: “وزارت پٹرولیم میں‌ لوٹ مار شروع ہو گئی تھی”: فردوس عاشق اعوان نے اپنے ہی وزیر پر خوفناک الزام لگا دیا

سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں اس ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران چیئرمین ایف بی آربھی عدالت میں پیش ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ ”ملک میں 13 کروڑ لوگ موبائل فون استعمال کرتے ہیں۔ موبائل کال پر چارجز کاٹنا کمپنیوں کا ذاتی عمل ہے۔ ملک بھر میں صرف 5 فیصد افراد ٹیکس ادا کرتے ہیں۔“سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ”جو ٹیکس کے اہل نہیں، ان سے ٹیکس لینا بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔“

یہ بھی پڑھیں: محبت میں بھی رشوت کا چلن ہو گیا، لڑکی نے رشوت لے کر لڑکے سے تعلق ختم کر لیا

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس میں مزید کہا کہ”جو لوگ ٹیکس نیٹ میں نہیں، ان سے ٹیکس کیسے لیا جا سکتا ہے؟“ چیف جسٹس نے کہا کہ ”ریڑھی والا فون استعمال کرتا ہے، وہ ٹیکس نیٹ میں کیسے آ گیا ؟ 13 کروڑ افراد پر موبائل ٹیکس کیسے لاگو ہو سکتا ہے؟ ٹیکس دہندہ اور نادہندہ کے درمیان فرق نہ کرنا امتیازی سلوک ہے۔ آئین کے تحت امتیازی پالیسی کو کالعدم قرار دیا جا سکتا ہے۔ 100 روپے کے لوڈ پر 63 روپے آنا غیر قانونی ہے، اس کے لیے جامع پالیسی بنائی جائے.“

یہ بھی پڑھیں: نقیب اللہ محسود کی اہلیہ پہلی بار سامنے آ گئیں، اپنے دکھ کی داستان دنیا کو سنا دی

ان تمام ریمارکس کے بعد بہرحال سپریم کورٹ نے ٹیکس معاملات میں مداخلت نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ سماعت کے اختتام پر چیف جسٹس نے کیس کا محفوظ فیصلہ پڑھ کر سنایا اور کہا کہ ”سپریم کورٹ ٹیکس معاملات میں مداخلت نہیں کرے گی، عدالت یہ از خود نوٹس نمٹاتی ہے۔“واضح رہے کہ گزشتہ سال 11 جون 2018ءکو سپریم کورٹ نے حکم امتناع جاری کرتے ہوئے موبائل فون کارڈز پر ٹیکس کٹوتی معطل کر دی تھی۔ اس موقع پر اس وقت کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے تھے کہ ”لوگوں سے لوٹ مار کی جا رہی ہے، مقررہ حد سے زیادہ استعمال پر ٹیکس وصول کریں۔“ موبائل کارڈز اور ری چارج پر ٹیکس بحال ہونے سے حکومت کو ماہانہ ساڑھے 7ارب روپے کی آمدن ہو گی۔

یہ بھی پڑھیں: ڈاکٹر عافیہ صدیقی خود پاکستان نہیں‌آنا چاہتیں: ترجمان دفتر خارجہ کے بیان نے ہنگامہ برپا کر دیا

اپنا تبصرہ بھیجیں