“جنسی تعلق کے لیے لڑکی کی تلاش”۔ پاکستانی مردوں نے بھی انٹرنیٹ پر شرمناک اشتہار دینے شروع کر دیئے

اسلام آباد(بول پاکستان رپورٹ) ہم تو مغربی معاشرے کی جنسی بے راہ روی کا رونا روتے تھے لیکن یہاں تو پاکستان میں ہی ایک ایسا شرمناک رجحان چل نکلا ہے کہ کچھ بدطینت پاکستانی مرد مغربی معاشرے کے جنسی بے راہ روی کو شرمائے دیتے ہیں۔ آپ نے ہمارے ہاں ‘رشتہ درکار ہے’ جیسے اشتہار تو دیکھ رکھے ہوں گے لیکن اب انٹرنیٹ پر کچھ عاقبت نا اندیش پاکستانی مرد ‘جنسی تعلق کے لیے لڑکی درکار ہے’ جیسے اشتہارات بھی دینے لگے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کس طرح سیف علی خان کی محبت میں‌گرفتار ہوئیں؟ کرینہ کپور نے پہلی بار راز کھول دیا

یہ لوگ اپنے اشتہارات کئی مختلف ویب سائٹس پر دے رہے ہیں۔ انہی میں سے ایک شخص نے اپنے اشتہار میں لکھا ہے کہ “مجھے ایک ایسی لڑکی کی تلاش ہے جو میری گرل فرینڈ بن کر رہے اور میرے ساتھ جنسی تعلق قائم کرے۔ اس کے لیے میں اس لڑکی کو ماہانہ 30 ہزار روپیہ ادا کروں گا۔” شوگر بے بی، شوگر ممی اور شوگر ڈیڈی جیسی اخلاق باختہ اصطلاحات مغرب کی پیدا کردہ ہیں لیکن پاکستانی مردوں کے ان اشتہاروں میں شوگر بے بی کے لیے بھی اشتہارات موجود ہیں۔ ایسے ایک شخص نے اپنے اشتہار میں لکھا ہے کہ “مجھے ایک لڑکی درکار ہے جو میری شوگر بے بی بن سکے۔ لڑکی پڑھی لکھی ہونی چاہیے۔ ابتدائ میں اسے ہر ملاقات کے عوض پیسے دوں گا اور اگر تعلق اچھا رہا تو مستقل معاہدہ کر لیں گے۔”

یہ بھی پڑھیں: تاریخ‌ میں‌ پہلی بار ایک مشرقی ملک نے مسلم خواتین کے برقع پہننے اور نقاب کرنے پر پابندی عائد کر دی

یہاں اپنے قارئین کو بتاتے چلیں کہ مغربی معاشرے میں شوگر بے بی کی اصطلاح ایسی کم عمر لڑکی کے لیے استعمال کی جاتی ہے جو امیر عمر رسیدہ مردوں کے ساتھ پیسوں کے عوض جنسی تعلق قائم کرتی ہے۔ ایسے مرد، آپ مردود بھی کہہ سکتے ہیں، شوگر ڈیڈی کہلاتے ہیں۔ ان ویب سائٹس پر ایسے پاکستانی مردوں کے درجنوں اشتہارات موجود ہیں۔ جن میں ان کی رابطے کی تفصیلات بھی موجود ہیں اور اگر کوئی ادارہ ان عاقبت نااندیشوں کو سبق سکھانا چاہے تو باآسانی ان تک پہنچ سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ”ہم آپ کو پاکستان کے اس جنگی ہتھیار کی معلومات نہیں دے سکتے“ امریکہ نے بھارت کی امیدوں پر پانی پھیر دیا

اپنا تبصرہ بھیجیں